6 اشعار

جو ہوگی صبح تو لوٹیں گے شام سے نکلے

Jo hogi subah to lauṭenge shaam se nikle

جو ہوگی صبح تو لوٹیں گے شام سے نکلےتمام عشق کے ناکام کام سے نکلے

تو مجھ کو چھو کہ تری انگلیاں مہک اٹھیںیہ میرا جسم بھی فکر دوام سے نکلے

چھپا لیا جو مرا رنگ تم نے آنکھوں میںکبھی وہ رنگ رخ لالہ فام سے نکلے

خوشی میں ویسے بھی مخصوص کچھ نہیں ہوتاملال یہ ہے مرے غم بھی عام سے نکلے

تمہاری ذات سے وابستہ آرزؤں کےسبھی جلوس بڑی دھوم دھام سے نکلے

گلے میں طوق تو پیروں میں بیڑیاں پہنےہم اس گلی سے بڑے اہتمام سے نکلے

— امیر امام