جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے
کلام: افقر موہانی
جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائےجہاں سجدہ کروں میں آستان یار ہو جائے
صبا برہم اگر زلف دراز یار ہو جائےقیامت کروٹیں لیتی ہوئی بیدار ہو جائے
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائےجہاں سجدہ کروں میں آستان یار ہو جائے
صبا برہم اگر زلف دراز یار ہو جائےقیامت کروٹیں لیتی ہوئی بیدار ہو جائے
ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتانشاں کیسا کہ ہستی کا گماں باقی نہیں رہتا
محبت میں نظام جسم و جاں باقی نہیں رہتایہ وہ منزل ہے جس میں کارواں باقی نہیں رہتا
مِرے ہم سَفرمِرے جسم و جاں کے ہر ایک رشتے سے معتبر، مرے ہم سَفر
تجھے یاد ہیں! تجھے یاد ہیں!وہ جو قربتوں کے سُرور میں