اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا
کلام: باقی صدیقی
اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑاراہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا
کس طرف سے آئی تھی تیری صداہر طرف تکنا پڑا، جانا پڑا
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑاراہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا
کس طرف سے آئی تھی تیری صداہر طرف تکنا پڑا، جانا پڑا
گھیر کے بے کسی نے ماراکوئی بھی نہ دے سکا سہارا
ساحل سے نہ کیجئے اشاراکچھ اور بھی دور اب خدا را
جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئےوہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے
یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہوہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے