شام کا پہلا تارا
کلام: زہرا نگاہ
جب جھونکا تیز ہواؤں کاکچھ سوچ کے دھیمے گزرا تھا
جب تپتے سورج کا چہرہاودی چادر میں لپٹا تھا
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
جب جھونکا تیز ہواؤں کاکچھ سوچ کے دھیمے گزرا تھا
جب تپتے سورج کا چہرہاودی چادر میں لپٹا تھا
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہےسنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتا
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہےہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئینہ میں کہہ سکا نہ تو سن سکا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
میرے دل کو درد سے بھر گیا ، مجھے بے یقین سا کرگیاتیرا بات بات پہ ٹوکنا ، مری بات بیچ میں رہ گئی