غزل 5 اشعار

آگ ہی آگ ہے گلشن یہ کوئی کیا جانے

Aag hi aag hai gulshan yeh koi kya jaane

آگ ہی آگ ہے گلشن یہ کوئی کیا جانےکس نے پھونکا ہے نشیمن یہ کوئی کیا جانے

نہ کہیں سوزن و رشتہ نہ کہیں بخیہ گریسر بسر چاک ہے دامن یہ کوئی کیا جانے

دیکھتے پھرتے ہیں لوگ آئینے سیاروں کےدل کا گوشہ بھی ہے درپن یہ کوئی کیا جانے

حسن ہر حال میں ہے حسن پراگندہ نقابکوئی پردہ ہے نہ چلمن یہ کوئی کیا جانے

عرشؔ اونچا تھا سر فن کبھی یا فخر و غروراب تہ تیغ ہے گردن یہ کوئی کیا جانے

— عرش ملسیانی