غزل 8 اشعار

محبت وہ مرض ہے جس کا چارہ ہو نہیں سکتا

Mohabbat woh maraz hai jis ka chaara ho nahin sakta

محبت وہ مرض ہے جس کا چارہ ہو نہیں سکتاجگر کا ہو کہ دل کا زخم اچھا ہو نہیں سکتا

وہ نالہ کوئی نالہ ہے جو کم ہو موج طوفاں سےوہ آنسو کوئی آنسو ہے جو دریا ہو نہیں سکتا

تماشا ہے کہ ہم اس کو مسیحا دم سمجھتے ہیںہمارے درد کا جس سے مداوا ہو نہیں سکتا

مجھے فریاد پر مائل نہ کر اے جوش ناکامیزمانے بھر میں دل کا راز رسوا ہو نہیں سکتا

عجب کیا ہے جو خاموشی ہی شرح آرزو کر دےمرے لب سے تو اظہار تمنا ہو نہیں سکتا

مبارک ہو تجھی کو یہ خیالستان اے واعظتری دنیا میں رندوں کا گزارہ ہو نہیں سکتا

تماشا ہو گیا ہے تیرے جلووں کا تماشائیکوئی اس شان سے محو تماشا ہو نہیں سکتا

بدل سکتے ہو تم بگڑی ہوئی قسمت زمانے کیتمہاری اک نگاہ ناز سے کیا ہو نہیں سکتا

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں