غزل 11 اشعار

بگڑی ہوئی قسمت کو بدلتے نہیں دیکھا

Bigri hui qismat ko badalte nahin dekha

بگڑی ہوئی قسمت کو بدلتے نہیں دیکھاآ جائے جو سر پر اسے ٹلتے نہیں دیکھا

کیوں لوگ ہوا باندھتے ہیں ہمت دل کیہم نے تو اسے گر کے سنبھلتے نہیں دیکھا

ہم جور بھی سہہ لیں گے مگر ڈر ہے تو یہ ہےظالم کو کبھی پھولتے پھلتے نہیں دیکھا

احباب کی یہ شان حریفانہ سلامتدشمن کو بھی یوں زہر اگلتے نہیں دیکھا

اشکوں میں سلگتی ہوئی امید کو دیکھوپانی سے اگر گھر کوئی جلتے نہیں دیکھا

ہر دم مرے دل ہی کو جلاتی رہیں آہیںگھر غیر کا لیکن کبھی جلتے نہیں دیکھا

وہ راہ سجھاتے ہیں ہمیں حضرت‌ رہبرجس راہ پہ ان کو کبھی چلتے نہیں دیکھا

الفت میں اگر جان نکل جائے تو سچ ہےدل سے مگر ارمان نکلتے نہیں دیکھا

کیوں چاہنے والوں سے خفا آپ ہیں اتنےپروانوں سے یوں شمع کو جلتے نہیں دیکھا

ہر ایک علاج دل بیتاب ہے بے سوداس کو تو کسی طور بہلتے نہیں دیکھا

اے عرشؔ گنہ بھی ہیں ترے داد کے قابلتجھ کو کف افسوس بھی ملتے نہیں دیکھا

— عرش ملسیانی