غزل 6 اشعار

اگر تقدیر تیری باعث آزار ہو جائے

Agar taqdeer teri baa'is-e-aazaar ho jaaye

اگر تقدیر تیری باعث آزار ہو جائےتجھے لازم ہے اس سے بر سر پیکار ہو جائے

مری کشتی ہے میں ہوں اور گرداب محبت ہےجو تو ہو نا خدا میرا تو بیڑا پار ہو جائے

کمال ضبط غم سے یہ گوارا ہی نہیں مجھ کوکہ حرف آرزو شرمندۂ اظہار ہو جائے

تیرے خواب گراں پر اے دل ناداں تعجب ہےکہ تو سوتا رہے سارا جہاں بے دار ہو جائے

انہیں کیوں کوستا ہے جو تجھے کہتے ہیں کم ہمتبرا کیا ہے حقیقت کا اگر اظہار ہو جائے

تمہیں اے عرش کیوں ہے تیر غم سے اتنی بے زارییہی بہتر ہے یہ ناوک جگر کے پار ہو جائے

— عرش ملسیانی