غزل 12 اشعار

وہ حاضر ہو کہ غائب ہو نہاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

Woh haazir ho ke ghaayab ho nihaan yoon bhi hai aur yoon bhi

وہ حاضر ہو کہ غائب ہو نہاں یوں بھی ہے اور یوں بھیسراسر راز راز کن فکاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

تحیر ہے حضوری میں تو بیتابی ہے دوری میںمصیبت میں یہ جان ناتواں یوں بھی ہے اور یوں بھی

تمنا کی طرح ترک تمنا بھی مصیبت ہےیہ دنیا اک مقام امتحاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

وہ آ کر بھی رلاتے ہیں وہ جا کر بھی رلاتے ہیںدل ناکام مشغول فغاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

اٹھایا ناز رہبر بھی جنوں بھی آزما دیکھامگر برہم نظام کارواں یوں بھی ہے اور یوں بھی

جو دل میں داغ روشن ہیں تو اشک خوں ہے آنکھوں میںیہ منظر گلستاں در گلستاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

رہی جو برق سے محفوظ پامال خزاں ہوگیغم انجام شاخ آشیاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

فقط کہنے کو تو ہے کامیابی اور ناکامیمحبت فاتح کون و مکاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

ستم ہو یا کرم دونوں کا ہم پر شکر واجب ہےجو اپنا مہرباں ہے مہرباں یوں بھی ہے اور یوں بھی

جو سن سکتے ہو تم سن لو نہیں طاقت تو ہم چپ ہیںہمیں منظور اپنا امتحاں یوں بھی ہے اور یوں بھی

امید سلسلہ در سلسلہ لطف و دوام اس میںبہار عمر فانی جاوداں یوں بھی ہے اور یوں بھی

گھٹا ساون کی اور اے عرشؔ الہامات کی بارشزمیں پر آج فیض آسماں یوں بھی ہے اور یوں بھی

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں