نظم 21 اشعار

امیروں کی دنیا

Ameeron Ki Duniya

کسی کی طبیعت میں پندار مستیکسی کو غرور جوانی کی مستی

کوئی مست میخانۂ خود پرستیامیروں کی دنیا تکبر کی پستی

فریبوں کے سائے میں ڈیرا ہے ان کاگناہوں کے گھر میں بسیرا ہے ان کا

کوئی اپنے زور حکومت پہ نازاںکوئی مال و دولت کی کثرت پہ نازاں

کوئی اپنے ایواں کی رفعت پہ نازاںکوئی حشمت و جاہ و ثروت پہ نازاں

وہ نشہ چڑھا ہے کہ بھولا خدا بھییہ سنتے نہیں بیکسوں کی دعا بھی

جو نایاب شے ہو اسے ڈھونڈ لائیںجو مرغوب خاطر ہو وہ چیز کھائیں

جو گرمی کو چاہیں تو سردی بنائیںاڑائیں پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوائیں

زمانے میں چلتی اگر ہے تو ان کییہاں دال گلتی اگر ہے تو ان کی

ہے دشوار ان کو بلندی نہ پستیامیروں کی دنیا میں مہنگی بھی سستی

نہ دیکھی انہوں نے کبھی فاقہ مستییہ ہیں بے نیاز غم تنگ‌‌ دستی

یہ مفلس کی مشکل کو کیا جانتے ہیںیہ نادار کو خاک پہچانتے ہیں

گزرتی ہے شب جو ہوس رانیوں میںتو کٹتا ہے دن فتنہ سامانیوں میں

یہ ہیں مست اپنی تن آسانیوں میںزمانہ ہے ان سے پریشانیوں میں

غریبوں کے حق میں بلا بننے والےیتیموں کے حق میں قضا بننے والے

زمانہ ہو زچ جس سے وہ چال کر دیںجو ممکن ہو دنیا کا پامال کر دیں

اگر ہو سکے سب کو کنگال کر دیںجو خوش حال ہوں ان کو بد حال کر دیں

غرض ان کے دل ہیں محبت سے خالیاخوت سے خالی عنایت سے خالی

جو بولے کوئی تو زبان کاٹ ڈالیںجو دیکھے کوئی اس کی آنکھیں نکالیں

نہیں ان سے ممکن کسی کو سنبھالیںکوئی مر رہا ہو تو اس کو بچا لیں

مگر شکر ہے عرشؔ فضل خدا کاوہ خلاق حافظ ہے ہر بے نوا کا

— عرش ملسیانی