نظم 18 اشعار

بھارت کے ویر سپاہی

Bharat Ke Veer Sipahi

ہم ہیں بہادر یودھا انتھکدیش کی سیماؤں کے رکشک

جاتے ہیں شترو کے گھر تکبھارت ورش کے سچے سیوک

دیتی ہے دنیا یہ گواہیہم بھارت کے ویر سپاہی

تڑ تڑ گولے برسا کرکھٹ کھٹ کھٹ کھٹ ٹینک چلا کر

ہتھ گولوں کو کام میں لا کربندوقوں کی مار دکھا کر

لاتے ہیں شترو پہ تباہیہم بھارت کے ویر سپاہی

گائیں ویروں کی گاتھائیںجنم بھومی کا قرض چکائیں

وجے پتاکا جب لہرائیںجے جے کار کا ناد بجائیں

وجے کی منزل کے سب راہیہم بھارت کے ویر سپاہی

دھوکے کی ہر بات بھی جیتیںدشمن کی ہر گھات بھی جیتیں

سانجھ بھی اور پربھات بھی جیتیںدن بھی جیتیں رات بھی جیتیں

کیسا اجالا کیسی سیاہیہم بھارت کے ویر سپاہی

بھیے سے میں گھبرا نہیں سکتاکوئی سامنے آ نہیں سکتا

کوئی ہمیں بہکا نہیں سکتادشمن چھپ کر جا نہیں سکتا

ایسی ہماری تیز نگاہیہم بھارت کے ویر سپاہی

دشمن کے سر کٹے پڑے ہیںجہاں اڑے ہیں ڈٹ کے اڑے ہیں

جھنڈے رن بھومی میں گڑے ہیںدیش پریم میں جم کے لڑے ہیں

ہم نے دیش سے پریت نباہیہم بھارت کے ویر سپاہی

— عرش ملسیانی