نظم 27 اشعار

پھر دھوم مچائی ہولی نے

Phir Dhoom Machaayi Holi Ne

پھر خندۂ گل کا شور ہواپھر موسم گل کا ساز بجا

پھر رنگ رنگ کے پھول کھلےپھر دور خزاں کا مٹ کے رہا

پھر شور نوشا نوش اٹھا پھر دھوم مچائی ہولی نےپھر ڈھول بجا پھر رنگ اڑا پھر دھوم مچائی ہولی نے

اڑتے ہیں عبیر گلال یہاںچہرے ہیں سبھوں کے لال یہاں

کوئی حال مست کوئی مال مستلٹتا ہے نشے کا مال یہاں

پھر دفتر رقص و رنگ کھلا پھر دھوم مچائی ہولی نےپھر ڈھول بجا پھر رنگ اڑا پھر دھوم مچائی ہولی نے

ہر نار اکڑتی تنتی ہےبے جا بوجھے بنتی ہے

ٹھانی ہے نشے کی مردوں نےپھر گھٹ کر گاڑھی چھنتی ہے

پھر غٹ غٹ بھنگ کا دور چلا پھر دھوم مچائی ہولی نےپھر ڈھول بجا پھر رنگ اڑا پھر دھوم مچائی ہولی نے

اک دھینگا مشتی ہوتی ہےکچھ دنگا کشتی ہوتی ہے

جو رنگ سے ڈرتے ہیں ان سےسختی و درشتی ہوتی ہے

اودھم سا ہے گلیوں میں مچا پھر دھوم مچائی ہولی نےپھر ڈھول بجا پھر رنگ اڑا پھر دھوم مچائی ہولی نے

کوئی شور کرے کوئی گالی بکےلب اتنے چلے چل کر نہ تکے

کھانے والا منہ کوئی نہیںیوں کہنے کو پکوان پکے

ہر چہرہ ہے لتھڑا لتھڑا پھر دھوم مچائی ہولی نےپھر ڈھول بجا پھر رنگ اڑا پھر دھوم مچائی ہولی نے

کوئی تولا ہے کوئی ماشا ہےکیا اچھا کھیل تماشا ہے

کہیں طبلہ ستار مردنگ کہیںکہیں باجا ہے کہیں تاشا ہے

نغمے کی رت نغمے کی فضا پھر دھوم مچائی ہولی نےپھر ڈھول بجا پھر رنگ اڑا پھر دھوم مچائی ہولی نے

ہے ناچ کی محفل آنگن میںہے ساز کھنکتا جھانجھن میں

رمدیاؔ جب پگ دھرتی ہےسرجوؔ خوش ہوتا ہے من میں

تا تھیا کی لگتی ہے صدا پھر دھوم مچائی ہولی نےپھر ڈھول بجا رنگ اڑا پھر دھوم مچائی ہولی نے

ہیں ناچ میں سارے نر ناریہے ہات میں سب کے پچکاری

اک راس رچی ہے گھر گھر میںجیسے آئے ہوں گردھاری

ہے راگ رنگ روپ نیا پھر دھوم مچائی ہولی نےپھر ڈھول بجا پھر رنگ اڑا پھر دھوم مچائی ہولی نے

ہولی کی جلتی آگ کے دنیہ رنگ کے دن یہ راگ کے دن

سردی بھی نہیں گرمی بھی نہیںہیں معتدل اتنے پھاگ کے دن

موسم ہے نہ کھانے پینے کا پھر دھوم مچائی ہولی نےپھر ڈھول بجا پھر رنگ اڑا پھر دھوم مچائی ہولی نے

— عرش ملسیانی