نظم 58 اشعار

ارض وطن

Arz-e Watan

خیالات میں سخت ہے انتشارتخیل پریشاں قلم بے قرار

جہاں خون آلود و خوں رنگ ہےوطن پر پڑا سایۂ رنج ہے

گل و لالہ ہیں مستعد بے تکاںرفیقوں نے رکھی ہتھیلی پہ جاں

ہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن

خلوص آج پامال ہے اور تباہاصول آج دریوزہ خواہ پناہ

گرفتار آزار دنیا ہے آجمحبت پریشان و رسوا ہے آج

اصول محبت کے ہم ترجماںخلوص و محبت کے ہم پاسباں

دوانوں کو مطلق نہیں ہے قرارصداقت سے بیتاب دل پائیدار

ہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن

وطن ہے یہ نانک کا فرماں‌ پذیرتھا گوتم اسی کارواں کا امیر

محبت نے رتبہ دیا ہے بلندمحبت نے سب کو کیا ارجمند

ہے غیرت کا طوفان چھایا ہواہے بچوں میں بھی جوش آیا ہوا

ارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار ہیں جاں نثار

ہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن

نہ دی دشمنوں کو کبھی اس نے راہہمالہ ہے رفعت سے عالم پناہ

ہمالہ کی دلچسپ ہے داستاںیہ عظمت نشاں سب کا ہے پاسباں

زمانے پہ یہ بات ہے آشکاراما اس کی ہے دختر نامدار

ہمالہ کی عظمت کی ہم کو قسمہمالہ کی رفعت کی ہم کو قسم

حفاظت ہمالہ کی اب فرض ہےہمالہ کا ہم پر بڑا قرض ہے

یہ کہتے ہیں سب مل کے خورد و کلاںکہ غیرت کا اس وقت ہے امتحاں

ہوا روئے شنکر ہے غصے سے لالدکھائے گا اب رقص تانڈو جلال

ارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار سب جاں نثار

ہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن

محافظ ہیں ہم امن کے لا کلامزمانے کو دیتے ہیں بدھ کا پیام

صبا اپنے گلشن سے جاتی ہے جبمٹاتی ہے دنیا کے رنج و تعب

رسیلی ہے صبح اور رسیلی ہے شامنہاں ان میں ہے زندگی کا پیام

روایت کا محفوظ کر کے وقارہمیں لوٹنا ہے خوشی کی بہار

ذرا دیکھئے گا رفیقوں کی آنہے رکھی جنہوں نے ہتھیلی پہ جان

ہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن

ہے عزت کا جرأت کا اب امتحاںکہیں جھک نہ جائے وطن کا نشاں

فریبوں سے کوئی پنپتا نہیںکبھی جھوٹ کا میوہ پکتا نہیں

صداقت کا ہے بول بالا سدانہیں کام آتے دروغ افترا

فضا ہے چمن کی ہمیں سازگارہے پابندہ تر اس زمیں کی بہار

ہر اک لب پہ ہے بس یہیں اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن

حیا اور مروت ہے جو پر رہیںہوئی ہیں وہ آنکھیں بہت خشمگیں

بڑھے ہیں وطن کی طرف بد قماشکلیجہ زمیں کا ہوا پاش پاش

پہاڑوں پہ ہے برف غصے سے لالفضائیں ہوئیں گرم آتش مثال

ہیں جہلم میں آنے کو طغیانیاںہر اک موج پر ہے غضب کا سماں

محبت کی دنیا کو دل میں لیےبہار جوانی سے پیماں کیے

وطن کی حفاظت کو تیار ہیںمحبت کے بادہ سے سرشار ہیں

حفاظت ہے فرض اپنے ارمان کیہمیں آج پروا نہیں جان کی

ہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن

۲آؤ بڑھو میدان میں شیروں دشمن پر یلغار کریں

قبر بنے میدان میں اس کی ایسا اس پر وار کریںزنگ نہ لگنے پائے اپنے بھارت کی آزادی کو

آؤ زیر دام کریں صیادوں کی صیادی کولوح دل پر نقش کرو ہر حال میں زندہ رہنا ہے

ملک کی خدمت کے رستے میں جو دکھ آئے سہنا ہےیہ سیلاب سرخ نہیں ہے ظلم و ستم کی آندھی ہے

اس سیلاب کو روکیں گے ہم ہمت ہم نے باندھی ہےشیروں کی اولاد ہو تم ان ویروں کی سنتان ہو تم

مرد مجاہد مرد جری ہو یودھا ہو بلوان ہو تمسانچی مدورا امرتسر اجمیر کی عظمت تم سے ہے

صبح بنارس شام اودھ کی اصل و حقیقت تم سے ہےتاج اجنتا اور ایلورا کے واحد فن کار ہو تم

خوش سیرت خوش صورت خوش مورت خوش کردار ہو تمبھیلائی چترنجن تم سے بھاکڑ اننگل تم سے ہے

دامودر کی شان ہے تم سے عظمت چنبل تم سے ہےتم نے بسائے شہر نرالے جنگل تم سے منگل ہیں

تم نے نکالی نہریں اتنی صحرا تم سے جل تھل ہیںتم نے اتنی ہمت سے دریاؤں کے رخ موڑ دیے

تم نے کھودیں سرنگیں اتنی دور کے رشتے جوڑ دیےتم کشمیر کی ارض حسیں کے نظاروں میں پلتے ہو

کہساروں کو پھاندتے ہو تم دریاؤں پہ چلتے ہوتم میسور میں ورندا بن کے باغ سجانے والے ہو

اوٹی شملہ دارجلنگ سے شہر بسانے والے ہوتاتیا ٹوپے لکشمی بائی ٹیپو کی اولاد ہو تم

جنگ کے فن میں قابل ہو تم ماہر ہو استاد ہو تمہندو مسلم سکھ عیسائی جینی بودھ اور پارسی

دہقاں تاجر اور ملازم سادھو‌ سنت اور سیاسیلے کے وطن کا جھنڈا آؤ دشمن پر یلغار کریں

قبر بنے رن‌ بھوم میں اس کی ایسا اس پر وار کریں

— عرش ملسیانی