نظم 32 اشعار

میں کیوں بھول جاؤں

Main Kyun Bhool Jaoon

تری چشم مے گوں کا لبریز ساغرجوانی تری کیف آور جوانی

گلستاں در آغوش حسن تبسموہ تیرے لب سرخ کی گل فشانی

تکلم کے انداز خاموشیوں میںزبان نظر پر حیا کی کہانی

تو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤںوہ سانسوں کی تیزی وہ سینے کی دھڑکن

وہ دونوں کا چھپ چھپ کے آنسو بہاناوہ تجدید الفت کے سو سو بہانے

وہ اک دوسرے سے یوں ہی روٹھ جاناوہ ترک محبت کے الزام دے کر

کسی کا کسی کو ہنسی میں رلاناتو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤں

وہ پاس ادب وہ خلوص محبتوفور تمنا میں خاموش رہنا

وہ نظارگی میں تحیر کا عالمخود اپنی نگاہوں سے خاموش رہنا

رضا جو طبیعت وہ تعلیم کوشیغم و رنج میں بھی وفا کوش رہنا

تو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤںسوالوں کا طومار مبہم زباں میں

مگر راز دل کا نہ اظہار کرنانگاہیں ملانے میں تو اک جھجھک سی

مگر دل ہی دل میں مجھے پیار کرناوہ عرض محبت پہ معصوم وعدے

وہ لکنت زباں کی وہ اقرار کرناتو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤں

تری چشم پر نم وہ مسعود ساعتیقیں بن گیا جب گمان محبت

محبت کے دن اور وہ فرقت کی راتیںدعائیں تھیں جب ترجمان محبت

وہ خط جن کا ہر لفظ اک داستاں تھاوہ جذبات سے پر بیان محبت

تو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤںوہ چھٹکی ہوئی چاندنی کی بہاریں

وہ گل پوش راتیں وہ دل کش نظارےمناظر سمٹتے ہوئے آب جو میں

فلک پر چمکتے ہوئے چاند تارےوہ تھک کر کسی کا یوں ہی بیٹھ جانا

وہ اٹھنا کسی کا کسی کے سہارےتو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤں

وہ طوفان جذبات و زور تمناوہ جوش محبت وہ پر شوق باتیں

وہ گھڑیاں وہ آرام و راحت کی گھڑیاںوہ فرحت کے دن وہ مسرت کی راتیں

وہ گھاتیں وہ گھاتوں کے پردے میں وعدےوہ وعدے وہ وعدوں کے پردے میں گھاتیں

تو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤںمآل مسرت وہ مجبور آنسو

وہ کیف طرب کا غم انجام ہوناپر الزام باتیں وہ سب کی زباں پر

محبت کے قصے کا وہ عام ہوناوہ برگشتہ خاطر بزرگوں کی باتیں

وہ معصوم روحوں کا بدنام ہوناتو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤں

وہ دن تفرقہ خیز مجبوریوں کافریب مقدر کی وہ چیرہ دستی

خمار مے عیش اور نا مرادیوہ مرگ تمنا وہ انجام مستی

رسوم کہن کی ستم آفرینیزمانے کا جور قدامت پرستی

تو ہی مجھ سے کہہ دے میں کیوں بھول جاؤں

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں