غزل 9 اشعار

بعد مدت کے یہ ہوا معلوم

Baad muddat ke yeh hua maaloom

بعد مدت کے یہ ہوا معلومجو ہے معلوم وہ ہے نا معلوم

کس نے کھوئے ہیں ہوش کیا معلومکون کافر ہے یہ خدا معلوم

ہم کو منزل کی ہے تلاش بہتگو نہیں اس کا راستا معلوم

دل میں اک درد کی کسک سی تھیاب ہوئی اس کی انتہا معلوم

جستجوئے ہزار کے با وصفکچھ ہوا کچھ نہیں ہوا معلوم

راز کونین اسی پہ فاش نہیںجس نے سمجھا کہ ہو گیا معلوم

اس کو قدرت نے دی گراں گوشیجس کو ہے ساز کی صدا معلوم

درد سے واسطہ ہے درد سے کامگو ہے اس درد کی دوا معلوم

عرشؔ وہ مجھ کو چھوڑتے ہی نہیںاب ہوئی جرم کی سزا معلوم

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں