غزل 6 اشعار

کیا چارہ کریں کیا صبر کریں جب چین ہمیں دن رات نہیں

Kya chaara karein kya sabr karein jab chain hamein din raat nahin

کیا چارہ کریں کیا صبر کریں جب چین ہمیں دن رات نہیںیہ اپنے بس کا روگ نہیں یہ اپنے بس کی بات نہیں

جو اس نے کیا اچھا ہی کیا جو ہم پہ ہوا اچھا ہی ہوااب گریہ و غم کچھ چیز نہیں اب نالۂ غم کچھ بات نہیں

ہم صبر و رضا کے بندے ہیں جو تم نے کیا سب جھیل لیااب دل میں بھی افسوس نہیں اب لب پر بھی ہیہات نہیں

جب الفت کا دم بھر بیٹھے جب چال ہی الٹی چل بیٹھےنادان ہو پھر کیوں کہتے ہو اس چال میں بازی مات نہیں

کچھ رنج نہیں کچھ فکر نہیں دنیا سے الگ ہو بیٹھے ہیںدل چین سے ہے آرام سے ہے آلام نہیں آفات نہیں

تم لطف کو جور بتاتے ہو تم ناحق شور مچاتے ہوتم جھوٹی بات بناتے ہو اے عرشؔ یہ اچھی بات نہیں

— عرش ملسیانی