غزل 7 اشعار

مجھ سے اتنا نہ انحراف کرو

Mujh se itna na inhiraaf karo

مجھ سے اتنا نہ انحراف کروجو خطا ہو گئی معاف کرو

میں خطاؤں کو مان لیتا ہوںتم محبت کا اعتراف کرو

یہ کدورت نہیں تمہیں زیبادل کو میری طرف سے صاف کرو

فیصلہ تم پہ اب تو چھوڑ دیامیرے حق میں کرو خلاف کرو

میری ہر بات میں ہے مجبوریمیری ہر بات کو معاف کرو

صاف ہے میرے دل کا آئینہمجھ سے تم بات صاف صاف کرو

کوئے جاناں مقام فیض ہے عرشؔتم اسی کعبے کا طواف کرو

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں