غزل 8 اشعار

بیاں ہوں بھی تو ہوں آخر کہاں جو دل کی باتیں ہیں

Bayaan hon bhi to hon aakhir kahaan jo dil ki baatein hain

بیاں ہوں بھی تو ہوں آخر کہاں جو دل کی باتیں ہیںنہ تنہائی کی باتیں ہیں نہ یہ محفل کی باتیں ہیں

مرتب کر لیا یوں ہم نے افسانہ محبت کاکچھ ان کے دل کی باتیں ہیں کچھ اپنے دل کی باتیں ہیں

جو ان میں پھنس گیا پھر راہ پر وہ آ نہیں سکتابڑے چکر کی باتیں رہبر منزل کی باتیں ہیں

تمہارا وعظ راز عشق کیا کھولے گا اے واعظزباں کی یہ نہیں حضرت یہ چشم و دل کی باتیں ہیں

وہ محفل سے جدا بھی ہو چکے محفل کو گرما کرمگر محفل میں اب تک گرمئ محفل کی باتیں ہیں

زباں سے کچھ کہو صاحب مگر معلوم ہے ہم کوتمہارے دل کی سب باتیں ہمارے دل کی باتیں ہیں

مجھے درس سکوں دیتے ہیں وہ جوش تمنا میںادھر طوفاں کی خواہش ہے ادھر ساحل کی باتیں ہیں

میں اپنے حال و ماضی پر بھی کچھ اے عرشؔ رو لیتامگر پیش نظر اس وقت مستقبل کی باتیں ہیں

— عرش ملسیانی