نظم 18 اشعار

بیوہ کی فریاد

Bewa Ki Fariyaad

کسی کی یاد دل میں ہے کہ جس سے جی نڈھال ہےکہوں اگر تو کیا کہوں عجب طرح کا حال ہے

نہ وہ زمیں نہ وہ فلک نہ اب وہ کائنات ہےوہ زندگی ہی اب نہیں نہ دن ہے وہ نہ رات ہے

وہ آرزو ہے کون سی جو آج پا بہ گل نہیںہے نام دل کا دل مگر جو سچ کہوں تو دل نہیں

گھٹا اٹھی تو ہے مگر پپیہا آج گائے کیاتڑپ مری مٹائے کیا لگی مری بجھائے کیا

وہ پریم سے بھرے بچن کہ جن سے کان آشناوہ مست آنکھ مد بھری کہ جس سے جان آشنا

وہ بات بات پر ہنسی وہ چھیڑ پیار پیار میںقرار اک تڑپ میں وہ تڑپ وہ اک قرار میں

کبھی ادھر سے تاکنا کبھی ادھر سے دیکھناوہ میرے دل کے شوق کو مری نظر سے دیکھنا

غرض وہ دن کہ جب مرے چمن میں اک بہار تھیغرض وہ دن کہ جب خوشی مرے لیے سنگار تھی

غرض وہ دن کہ نغمہ زن مسرتوں کا ساز تھاغرض وہ دن کہ حسن جب مرا نظر نواز تھا

غرض وہ دن کہ جب سے دل نشان غم کا دور تھاغرض وہ دن کہ آنکھ میں بھرا ہوا سرور تھا

غرض وہ دن کہ میں بھی جب کسی کے دل کا ناز تھیغرض وہ دن نیاز کے کہ جب میں بے نیاز تھی

غرض وہ دن خیال تھا کہ اب نہ جائیں گے کبھیچلے گئے کچھ اس طرح کہ پھر نہ آئیں گے کبھی

غضب یہ ہے شباب میں مرا سہاگ لٹ گیاسفر میں تھا جو ہم سفر اسی کا ساتھ چھٹ گیا

یہ سچ ہے مجھ غریب کا کوئی رفیق اب نہیںیہ سچ ہے غم نصیب کا کوئی شفیق اب نہیں

فغاں میں اب وہ جوش ہے کہ جس کی انتہا نہیںجگر میں اب وہ درد ہے کہ جس کی کچھ دوا نہیں

خیال ہے خزاں میں بھی مجھے اسی بہار کاغضب ہے چھوڑتا نہیں فریب انتظار کا

اجل کی ایک شکل ہے یہ درد اس بلا کا ہےدوا کروں تو کیا کروں کہ وقت اب دعا کا ہے

مری طرح نہ زندگی کسی کی یوں عجیب ہونصیب موت ہو اگر تو زندگی نصیب ہو

— عرش ملسیانی