نظم 13 اشعار

دیوالی

Diwali

دیوالیرگھبر کی پاک یاد کا عنواں لیے ہوئے

ظلمت کے گھر میں جلوۂ تاباں لیے ہوئےتاریکیوں میں نور کا ساماں لیے ہوئے

آئی ہے اپنے ساتھ چراغاں لیے ہوئےاللہ رے یہ تاب یہ تنویر یہ جمال

خورشید کی نظر بھی ہے جمنی یہاں محالطاری ہے زاہدوں پہ بھی عالم سرور کا

اب کس لیے خیال ہو حور و قصور کاعالم تو دیکھیے شب یلدا پہ نور کا

جلتے ہیں یہ چراغ کہ جلوہ ہے طور کامنظر بہشت کا ہے یہ شب ہے شب برات

تنویر آفتاب کا پرتو ہے آج راتوہ رام جو کہ کامل صدق و صفا رہا

وہ رام جو کہ سالک راہ ہدیٰ رہاوہ رام جو کہ آئینۂ حق نما رہا

وہ رام جو کہ قاطع جور و جفا رہایہ رات یادگار ہے اس نیک ذات کی

اس پیکر خلوص کی والا صفات کیچودہ برس کے بعد جو آیا وطن میں رام

ہر لب تھا وقف نغمہ تو ہر دل تھا شاد کامتھی رشک نور صبح بنارس اودھ کی شام

اہل اجودھیا کی زباں پر تھا یہ کلامہم بے بسوں کا قافلہ سالار آ گیا

بن باسیوں کی فوج کا سردار آ گیا

— عرش ملسیانی