نظم 6 اشعار

ہولی

Holi

سحر موسیقی ہوا پھر گونج اٹھے گوکل کے بنرقص فرمانے لگی پھر وادیٔ گنگ و جمن

پھر شباب مست نکلا مل کے چہرے پر گلالپھر نکھر آیا بہار لالہ سے حسن چمن

پھر ہوائے تند لے کر آئی ہولی کی بہارہاتھ میں پچکاریاں لے کر چلے پھر مرد و زن

پھر جنون زندگی کو مل گیا نام سرورپھر نظر آنے لگا ہر سادگی میں بانکپن

ڈھولکیں باجے مجیرے اور کھڑتالیں بجیںپھر فضائیں ہو گئیں بنسی کی لے سے نغمہ زن

رنگ میں ڈوبی ہوئی ہیں گوپیاں سر تا قدماودے اودے پیلے پیلے نیلے نیلے پیرہن

— عرش ملسیانی