غزل 7 اشعار

لطف ہی لطف ہے جو کچھ ہے عنایت کے سوا

Lutf hi lutf hai jo kuchh hai inaayat ke siwa

لطف ہی لطف ہے جو کچھ ہے عنایت کے سواہے محبت سے سوا جو ہے محبت کے سوا

دوستوں کے کرم خاص سے بچنے کے لیےکوئی گوشہ نہ ملا گوشۂ عزلت کے سوا

مجھ سے شکوہ بھی جو کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیںکچھ بھی آتا ہی نہیں تجھ کو شکایت کے سوا

آپ کے خط کو میں کس بات کا غماز کہوںاس میں سب کچھ ہے بس اک حرف محبت کے سوا

جس قدر چاہو گناہوں پہ ہنسو خوب ہنسویہ علاج اور بھی ہے اشک ندامت کے سوا

وہ جو کہتے ہیں کہ ہے فہم و فراست ہم سےایسے لوگوں میں سبھی کچھ ہے فراست کے سوا

اس نئی بات کو بھی عرشؔ کبھی سوچا ہےآج کل شعر میں جدت ہے تو جدت کے سوا

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں