غزل 8 اشعار

دل فسردہ پہ سو بار تازگی آئی

Dil-e-fasurda pe sau baar tazgi aayi

دل فسردہ پہ سو بار تازگی آئیمگر وہ یاد کہ جا کر نہ پھر کبھی آئی

چمن میں کون ہے پرسان حال شبنم کاغریب روئے تو غنچوں کو بھی ہنسی آئی

نوید عیش سے بھی لطف عیش مل نہ سکالباس غم ہی میں آئی اگر خوشی آئی

کسی طرح بھی زمانے کو بس میں کر نہ سکےنہ دوستی نہ ہمیں راس دشمنی آئی

عجب نہ تھا کہ غم دل شکست کھا جاتاہزار شکر ترے لطف میں کمی آئی

زمانہ ہنستا ہے مجھ پر ہزار بار ہنسےتمہاری آنکھ میں لیکن یہ کیوں نمی آئی

دیئے جلائے امیدوں نے دل کے گرد بہتکسی طرف سے نہ اس گھر میں روشنی آئی

ہزار دید پہ پابندیاں تھیں پردے تھےنگاہ شوق مگر ان کو دیکھ ہی آئی

— عرش ملسیانی