غزل 12 اشعار

جو میرا ہوش کا عالم ہے بے خودی تو نہیں

Jo mera hosh ka aalam hai bekhudi to nahin

جو میرا ہوش کا عالم ہے بے خودی تو نہیںمیں جس کو اپنا سمجھتا ہوں اجنبی تو نہیں

خدا گری کا یہ ماہر کچھ اور ہی شے ہےتم آدمی جسے کہتے ہو آدمی تو نہیں

یہ اور بات ہے محروم التفات ہوں میںترے کرم کے خزانے میں کچھ کمی تو نہیں

ثبوت ملتا ہے اس سے کسی تعلق کاکمال برہمیٔ دوست دشمنی تو نہیں

نگاہ و دل میں بھی لازم ہے اک مروت و کیفنمود عارض و گیسو ہی دلبری تو نہیں

نزول برق ہے شاید یہ آشیانوں پرتو روشنی جسے سمجھا ہے روشنی تو نہیں

تمہارے چہرے پہ آثار ہیں خوشی کے مگرجو میرے چہرے سے ظاہر ہے وہ خوشی تو نہیں

پئے شراب عبادت گزار ہوئے اے شیخمگر حضور یہ شایان بندگی تو نہیں

نہ جانے کیوں مرے دل کو یقیں نہیں آتاجو تو نے جلوہ دکھایا ہے عارضی تو نہیں

سنا ہے توبہ سے ہوتا ہے تازہ تر ایماںہزار شکر کہ یہ عارضہ ابھی تو نہیں

تباہیوں کے لئے مستعد ہیں اہل جہاںیہ آگہی کہیں توہین آگہی تو نہیں

بس ایک مرگ مسلسل بس ایک رنج دوامکچھ اور شے ہے یہ اے عرشؔ زندگی تو نہیں

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں