غزل 9 اشعار

دل ہوتا ہے تسکین کے عالم میں حزیں اور

Dil hota hai taskeen ke aalam mein hazeen aur

دل ہوتا ہے تسکین کے عالم میں حزیں اورلے چل مجھے اے شوق سبک گام کہیں اور

ہاں اور اٹھا پردے کو اے پردہ نشیں اورمجھ سا نہیں کوئی ترے جلووں کا امیں اور

جتنی وہ مرے حال پہ کرتے ہیں جفائیںآتا ہے مجھے ان کی محبت کا یقیں اور

مے خانہ کی ہے شان اسی شور طلب سےہاں اور نہیں پر ہے تقاضا کہ نہیں اور

ہے حاصل صد زیست جوانی کا یہ عالماے عمر گریزاں مجھے رہنے دے یہیں اور

مجھ سا جو نہیں اور کوئی چاہنے والاتجھ سا بھی زمانے میں نہیں کوئی حسیں اور

کافی نہیں مجھ کو یہ نگاہ غلط اندازہاں اور بڑھا حوصلۂ‌‌ قلب حزیں اور

تکرار کا اے شیخ یہی تو ہے نتیجہتم نے جو کہیں اور تو ہم سے بھی سنیں اور

ہم مرتبۂ‌ عرشؔ کوئی ان میں نہ ہوگاہوں گے در جاناں کے بہت خاک نشیں اور

— عرش ملسیانی