غزل 11 اشعار

دل ان کا ہے کچھ اور تو ہے ان کی زباں اور

Dil un ka hai kuchh aur to hai un ki zubaan aur

دل ان کا ہے کچھ اور تو ہے ان کی زباں اورکرتا ہوں یقیں جتنا میں بڑھتا ہے گماں اور

منزل کا جنوں ہے تو ہر اک گام ہے منزلمٹتا ہے نشاں اور کا تو ملتا ہے نشاں اور

پروانے کے ماتم میں بجھی شمع یہ کہہ کرتیرے لیے حاضر ہے یہ تھوڑا سا دھواں اور

پر درد جو دل میں انہیں روکو نہ فغاں سےہوتے ہیں یہ خاموش تو کرتے ہیں فغاں اور

یا رب یہ سنا ہے وہ سمجھتے نہیں اردودے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

ہوتا ہے فزوں یاس میں سوز غم الفتبجھتا ہے تو ہوتا ہے یہ دل شعلہ فشاں اور

اپنوں ہی سے تم عشق میں گھبرا گئے صاحباس راہ میں حائل ہیں ابھی سنگ‌ راں اور

دنیا میں تو ممنوع ہے جنت میں ہے جائزکیا بات ہے واعظ کی یہاں اور وہاں اور

ہوتی ہے زباں بند تو کیا کچھ نہیں کہتیرکتی ہے یہ تلوار تو ہوتی ہے رواں اور

اصنام تراشی بھی بڑی چیز ہے لیکنہے نازکیٔ کارگہہ شیشہ گراں اور

کہنے کو تو اے عرشؔ سخن سنج ہیں ہم بھیحق یہ ہے کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں