نظم 14 اشعار

جشن آزادی

Jashn-e Azaadi

برق رفتاری پہ اپنی رشک کرتا تھا جہاںسوئے آزادی ہمارا قافلہ تھا تیز گام

سیکھنا ہے لیکن اب مے خانۂ تعمیر میںجنبش نبض تمنا و خرام دور جام

منزل مقصود تک یہ قوم جا سکتی نہیںجس کے قبضے میں نہیں اسپ سیاست کی لگام

ہم کو بچنا چاہئے ہر اس برے اقدام سےجس سے ہو مطعون دنیا میں وطن کا نیک نام

اتحاد و آشتی ہر دم رہیں پیش نظرجا گزیں دل میں رہے ذوق عمل بالالتزام

دور آزادی کا گوہر عیش ہے عیش حلالدل یہ کہتا ہے کہ یوں پابند ہونا ہے حرام

دل کی تلقینات پر پہلے عمل فرمائیےشوق سے پھر جشن آزادی مناتے جائیے

عیش کے ساماں بھی ہوں اور فرض کا احساس بھیجشن بھی ہو غم زدوں کی ناز برداری بھی ہو

داخل آداب مے نوشی ہو ساقی کا ادبمستیاں ہوں مستیوں کے ساتھ ہشیاری بھی ہو

کچھ پئیں اور کچھ بچائیں تشنہ کاموں کے لیےسادگی کا ناز بھی انداز پرکاری بھی ہو

حال کی خاطر خرد کوشی ہے مستحسن مگربہر مستقبل جنون ذوق بیداری بھی ہو

نرم رفتاری ہو وقت سیر گل زار طربراہ پرخار عمل میں گرم رفتاری بھی ہو

اس خوشی کے وقت کتنے دل ہیں غم سے پائماللطف آ جائے اگر ان سب کی غم خواری بھی ہو

رونے والوں کی ہنسی کو پہلے واپس لائیےشوق سے پھر جشن آزادی مناتے جائیے

— عرش ملسیانی