نظم 26 اشعار

دو آبا بست جالندھر

Do Aaba Bast Jalandhar

اے وطن اے لہلہاتی کھیتوں کی سر زمیںاے نگین خاتم پنجاب اے ارض حسیں

سور بیروں سورماؤں پہلوانوں کے وطنمحنتی بندوں جیالوں کے کسانوں کے وطن

تو جنم داتا بھگت سنگھ اور شردھا نند کامدرسہ تو صوفیوں سنتوں کے وعظ و پند کا

راے زادوں اور سرداروں کی خاک پاک توشاعران خوش بیاں کا مرجع ادراک تو

کتنے موسیقار کتنے شاعران خوش نواماہر تعلیم کتنے اور کتنے رہنما

تیری خاک پاک سے اٹھے ہیں کتنے نیک نامآسمان اوج پر جن کو ملا اونچا مقام

کتنے مردان جری کتنے جوانان غیورکتنے صاحب عقل کتنے مالک فہم و شعور

زندگی کی ڈولتی کشتی کے کتنے ناخداکتنے مردان حقیقیت کوش کتنے با خدا

غیرت باغ ارم ہیں کھیتیاں ہر گاؤں میںخلد کا آرام ہے پیڑوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں

زاد بوم عرش رفعت آشنا تیری خاکجوشؔ کے خورشید معنی کی ضیا سے تابناک

میں نے ان راہوں میں دیکھی ہیں بہت نیرنگیاںڈھولکوں کے زیر و بم چمٹوں کی خوش آہنگیاں

ہیں کہیں سرسوں کہیں گیہوں کہیں گنے کے کھیتہے کہیں چاندی سا پانی کہیں سونے سی ریت

اک طرف چلتے ہیں ہل اک سمت چلتے ہیں خراساتنی محنت اور لب پر نغمۂ شکر و سپاس

گوشہ گوشہ تیرا نور علم سے معمور ہےذرہ ذرہ حامل نور چراغ طور ہے

تیری پنجابی زباں میں لطف‌ شہد و قند ہےاس قدر سادہ کہ ہر راہ تکلف بند ہے

ثبت ہے دنیا پہ تیرا سکۂ فرزانگیعلم کی خاطر دکھائی تو نے وہ دیوانگی

جس جگہ سے بھی ملا ہے مجھ کو جو ہر تجھ میں ہےملسیاںؔ تجھ میں نکودرؔ تجھ میں شنکرؔ تجھ میں ہے

ملسیاںؔ کی خاک سے اٹھا نکودر میں پلابارہا میں ولاہانہ عازم شنکرؔ ہوا

اف وہ میلے چوکیوں کے اف وہ میٹھی بولیاںیاد ہیں اب تک مجھے وہ سرپھروں کی ٹولیاں

وہ زمانہ جن دنوں کھڑکا بسنتا تھے جواںمیں یہاں ہر سال آ کر دیکھتا تھا کشتیاں

اک طرف میلے میں ہوتا پہلوانوں کا ہجومدوسری جانب یہاں شطرنج کی مچتی تھی دھوم

چھنج کا میلا بھی تھا شطرنج کا میلا بھی تھاشاطری میں فرد چھجو رام سے کھیلا بھی تھا

سورن سنگھ اس خاک کا بیٹا ہے ہم مکتب مراعہد طفلی میں تھا جو ہم راز و ہم مشرب مرا

فخر شنکر ہیں رلا رام اور متھرا داس بھیقابل عزت نرندر سنگھ سے سیاس بھی

پہلوانوں میں ہے پر تعظیم گرداورؔ کا نامشاطروں میں حسن لال اک شاطر عالی مقام

السلام اے بست جالندھر دو آبے کی زمیںہیں دو آبے تو بہت تجھ سا مگر کوئی نہیں

— عرش ملسیانی