نظم 12 اشعار

شعرائے پاکستان کا خیر مقدم

Shuara-e Pakistan ka Khair Maqdam

یہ وقت نہیں قصۂ محتاج و غنی کایہ وقت نہیں دل دہی و دل شکنی کا

یہ وقت نہیں شکوۂ دنیائے دنی کااے ہم سخنو وقت ہے یہ ہم سخنی کا

کب تک یہ رہے گا کہ رہو ہم سے جدا تمہم تم سے ادھر اور ادھر ہم سے خفا تم

یہ سچ ہے کہ تقسیم ہوا ملک ہمارایہ سچ ہے کہ اونچا ہوا نفرت کا ستارا

یہ سچ ہے کہ نفرت کا ہوا عام اجارایہ سچ ہے کہ نفرت نے عداوت کا ابھارا

ہم تم میں جو رشتہ ہے وہ کب ٹوٹ سکے گادامن جو ادب کا ہے وہ کب چھوٹ سکے گا

اے ہم سخنو اصل میں رہبر تو ہمیں ہیںمایوس خلائق کے پیمبر تو ہمیں ہیں

جو اوج پہ رہتے ہیں وہ اختر تو ہمیں ہیںمے پاش جو سب پر ہیں وہ ساغر تو ہمیں ہیں

ہم چاہیں تو سکہ حق و انصاف کا چل جائےہم چاہیں تو تقدیر امم پل میں بدل جائے

پیمان ادب باندھ کے اک عمر گزاریہم شعر کے خادم ہیں محبت کے پجاری

وابستہ ادب سے ہے ہر اک بات ہماریکرنے دو جو کرتے ہیں سیاست کے مداری

جو فکر میں ہے لطف فراست میں نہیں ہےجو شعر میں جادو ہے سیاست میں نہیں ہے

— عرش ملسیانی