نظم 19 اشعار

گاندھی

Gandhi

شہیدوں کا سرتاج جنت مقاممحبت کی معراج ذی احترام

غلامان عالم کی پشت و پناہاہنسا کے بندوں کی امید گاہ

وہ غم بھی وطن کا تھا غم خوار بھیرضاکار بھی اور سالار بھی

اہنسا کا پیرو مگر شیر مردمحبت میں یکتا صداقت میں فرد

ہوا جس کے دم سے بہ صد احتشامسیاست سے اونچا صداقت کا نام

وہ آدم کی عظمت کا آئینہ داروہ ذرہ کہ چمکا تھا خورشید دار

وہ جس نے دیا آدمیت کو اوجوہ جس نے لڑائی اہنسا کی فوج

قفس ہے کوئی اب نہ صیاد ہےوطن جس کی حکمت سے آزاد ہے

وہ نور ضیا‌ بار سیمائے خیروہ جویاے‌ خیر و شناسائے خیر

فرشتہ خصال و فرشتہ سیرملک در حقیقت بہ ظاہر بشر

محبت کی وہ اک شبیہ حسیںاخوت کا وہ ایک ماہ مبیں

وہ حق آگہی کی کچھاروں کا شیرصداقت کے میداں کا مرد دلیر

فلک آفریں اور گردوں طرازمریضان پستی کا وہ چارہ ساز

وہ کوتاہ بینوں کی شمع شعوروہ گمراہیوں میں ہدایت کا نور

وہ جس نے اٹھایا زمانے کا بارکیا جس نے جابر کو بے اختیار

وہ بے مثل قاعد موئثر خطیبوہ لشکر میں جس کے امیر و غریب

وہ جس نے کروڑوں کے کاٹے ہیں بندوہ ارفع وہ اعلیٰ وہ سب سے بلند

وہ جس کی عطا ہے نرالی عطاوہ جس نے دیا اک نیا فلسفہ

زمیں پر بہا اس جری کا لہوتفوبر تو اے چرخ گرداں تفو

— عرش ملسیانی