نظم 21 اشعار

گورونانک

Guru Nanak

اے رہبر منزل تری رفتار کے صدقےاے مہر منور ترے انوار کے صدقے

اے بندۂ حق گو تری گفتار کے صدقےاے صاحب ایماں ترے کردار کے صدقے

تو بندہ و صاحب بھی تھا محتاج و غنی بھیجلووں کا امیں بھی ترے لب پہ ارنی بھی

ہر چہرۂ مردم کے خد و خال برے تھےدیکھو جسے اس شخص کے اعمال برے تھے

ملا کے بھی پنڈت کے بھی اعمال برے تھےجو جھوٹ نے پھیلائے تھے وہ جال برے تھے

سچا ترا دن اور تری رات بھی سچیسچا ترا سودا تیری ہر بات بھی سچی

اس در کا پجاری کوئی اس در کا پجاریمغرب کا پجاری کوئی خاور کا پجاری

مینا کا پجاری کوئی ساغر کا پجاریقبروں کا پجاری کوئی بنجر کا پجاری

کثرت تھی یہاں شرک کی توحید نہیں تھیروزوں کا بھلاوا تھا مگر عید نہیں تھی

تو ہندو و مسلم کے گناہوں سے تھا واقفمذہب کی سسکتی ہوئی آہوں سے تھا واقف

تو شعبدہ بازوں کی نگاہوں سے تھا واقفتو منزل توحید کی راہوں سے تھا واقف

در حق کے کبھی بندۂ حاجی پہ کھلے ہیںگنگا میں نہا کر بھی کبھی پاپ دھلے ہیں

تو نے یہ کہا سب سے بڑا حکم رضائیتو نے یہ کہا سانچ کی قیمت نہیں پائی

تو نے یہ کہا سو کے یہ سب عمر گنوائیتو نے یہ کہا جھوٹ ہے سب زہد ریائی

پر معنی و پر مغز ہیں نیکی کے اشارےہر حال میں ہر رنگ میں رہبر ہیں ہمارے

میں مست مئے عشق ہوں تن ریش قلندرتیرتھ ہے اگر کوئی تو اس من کے ہے اندر

جاؤں میں کہاں سجدے کو من میرا ہے مندرہے عزم مرا فاتح دارا و سکندر

گاتے ہیں جسے دیوتا بھی چودہ رتن بھیرقصاں ہے اسی در پہ میری جان بھی تن بھی

جو درس دیا تو نے وہ عظمت کا امیں ہےوہ پریم کی اخلاق کی خاتم کا نگیں ہے

کندن جو نہ ہو جائے وہ سونا ہی نہیں ہےحق گو ہے جو دنیا ہی میں جنت کا مکیں ہے

سر جھکتے ہیں سب کے تری سرکار میں آ کرہم سجدہ کناں ہیں ترے دربار میں آ کر

— عرش ملسیانی