غزل 10 اشعار

ہیں ایسے بد حواس ہجوم بلا سے ہم

Hain aise bad hawaas hujoom-e-bala se hum

ہیں ایسے بد حواس ہجوم بلا سے ہماپنا سمجھ کے ملتے ہیں ہر آشنا سے ہم

طوفان سے الجھ گئے لے کر خدا کا نامآخر نجات پا ہی گئے ناخدا سے ہم

پہلا سا وہ جنون محبت نہیں رہاکچھ کچھ سنبھل گئے ہیں تمہاری دعا سے ہم

یوں مطمئن سے آئے ہیں کھا کر جگر پہ چوٹجیسے وہاں گئے تھے اسی مدعا سے ہم

آنے دو التفات میں کچھ اور بھی کمیمانوس ہو رہے ہیں تمہاری جفا سے ہم

خوئے وفا ملی دل درد آشنا ملاکیا رہ گیا ہے اور جو نا مانگیں خدا سے ہم

عادت سی ہو گئی ہے شکایات کی ہمیںبیزار تو نہیں ہیں تمہاری جفا سے ہم

پائے طلب بھی تیز تھا منزل بھی تھی قریبلیکن نجات پا نہ سکے رہنما سے ہم

دنیا سے کچھ لگاؤ نہ عقبیٰ کی آرزوتنگ آ گئے ہیں اس دل بے مدعا سے ہم

ہوتے نشاط عشق سے بھی فیضیاب عرشؔمجبور ہیں مگر دل غم آشنا سے ہم

— عرش ملسیانی