غزل 4 اشعار

جس میں ہو دوزخ کا ڈر کیا لطف اس جینے میں ہے

Jis mein ho dozakh ka dar kya lutf is jeene mein hai

جس میں ہو دوزخ کا ڈر کیا لطف اس جینے میں ہےتوبہ کرنے میں کہاں وہ جو مزا پینے میں ہے

خشک باتوں میں کہاں اے شیخ کیف زندگیوہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے

میں تری تحقیر کر سکتا نہیں اے ضبط شوقمیرے سینے میں رہے گا راز جو سینے میں ہے

عرشؔ پر دیکھا جو تو نے اے نگاہ دور بیںآ دکھاؤں میں وہی جلوہ مرے سینے میں ہے

— عرش ملسیانی