غزل 6 اشعار

حسن پر دسترس کی بات نہ کر

Husn par dastaras ki baat na kar

حسن پر دسترس کی بات نہ کریہ ہوس ہے ہوس کی بات نہ کر

پوچھ اگلے برس میں کیا ہوگامجھ سے پچھلے برس کی بات نہ کر

یہ بتا حال کیا ہے لاکھوں کامجھ سے دو چار دس کی بات نہ کر

یہ بتا قافلے پہ کیا گزریمحض بانگ جرس کی بات نہ کر

عشق جان آفریں کا حال سناحسن عیسیٰ نفس کی بات نہ کر

یہ بتا عرشؔ سوز ہے کتناساز پر دسترس کی بات نہ کر

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں