غزل 8 اشعار

زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیا

Zakhm-e-dil bhi dikha ke dekh liya

زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیابس تمہیں آزما کے دیکھ لیا

داغ دل سے بھی روشنی نہ ملییہ دیا بھی جلا کے دیکھ لیا

شکوہ مٹتے ہیں کیوں کر آپ سے آپسامنے ان کے جا کے دیکھ لیا

مژدہ اے حسرت دل پر شوقاس نے پھر مسکرا کے دیکھ لیا

آبرو اور بھی ہوئی پانیاشک حسرت بہا کے دیکھ لیا

ترک الفت کے سن لئے الزامراز دل کو چھپا کے دیکھ لیا

جو نہ دیکھا تھا آج تک ہم نےدل کی باتوں میں آ کے دیکھ لیا

کوئی اپنا نہیں یہاں اے عرشؔسب کو اپنا بنا کے دیکھ لیا

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں