غزل 7 اشعار

عشق بتاں کا لے کے سہارا کبھی کبھی

Ishq-e-butan ka le ke sahara kabhi kabhi

عشق بتاں کا لے کے سہارا کبھی کبھیاپنے خدا کو ہم نے پکارا کبھی کبھی

اس انتہائے ترک تعلق کے باوجودہم نے لیا ہے نام تمہارا کبھی کبھی

طوفاں کا خوف ہے ابھی شاید کرشمہ کارآتا ہے سامنے جو کنارہ کبھی کبھی

بہکے تو میکدے میں نمازوں پہ آ گئےیوں عاقبت کو ہم نے سنوارا کبھی کبھی

تنہا روی نے رکھی ہمارے جنوں کی لاجگو اہل کارواں نے پکارا کبھی کبھی

اب کیا کہیں دل متلون مزاج کواکثر یہ آپ کا ہے ہمارا کبھی کبھی

فریاد غم سے عرشؔ سنبھلتا ہے دل مگرلیتے ہیں اہل دل یہ سہارا کبھی کبھی

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں