غزل 6 اشعار

کیوں نہ ہو داد طلب ہمت مردانۂ دل

Kyun na ho daad-talab himmat-e-mardana-e-dil

کیوں نہ ہو داد طلب ہمت مردانۂ دلمائل حسن جہاں سوز ہے پروانۂ دل

ایک عبرت کا مرقع ہے الم خانۂ دلحسرت و یاس کا افسانہ ہے افسانۂ دل

جس کو رہتی ہے کسی اور کے جلوے کی تلاشاس نے دیکھا ہی نہیں جلوۂ جانانۂ دل

اب میں سمجھا کہ محبت میں اثر ہے کتنالوگ سنتے ہیں بڑے شوق سے افسانۂ دل

قابل داد ہے یہ شوق طلب اے ساقیلے کے آیا ہوں میں ٹوٹا ہوا پیمانۂ دل

اک زمانے کو جلا دیتا ہے جل کر اے عرشؔشعلۂ برق جہاں سوز ہے پروانۂ دل

— عرش ملسیانی