غزل 7 اشعار

کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے

Kisi naghme mein hai woh aur na kisi saaz mein hai

کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہےرس بھری نرم سی لے جو تری آواز میں ہے

گوش مشتاق کی خود ساختہ تفریق ہے یہورنہ جو ساز ہے باہر ہے وہی ساز میں ہے

لے نہ ڈوبے کہیں خوش فہمیٔ ادراک تجھےنا خدائی تری پوشیدہ اسی راز میں ہے

آپ ہی زندہ کریں مردہ تمناؤں کوقم بہ اذنی کا اثر آپ کی آواز میں ہے

ہم صفیروں کی صداؤں کا اثر ہے شایدہر گرفتار قفس کوشش پرواز میں ہے

کیوں کریں غیر سے ہم عرض نیاز الفتجس کے طالب ہیں ابھی جلوہ گاہ ناز میں ہے

عرشؔ تک دیکھیے پہنچے کہ نہ پہنچے کوئیآہ کے ساتھ دعا بھی مری پرواز میں ہے

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں