نظم 24 اشعار

جنت کشمیر یہی ہے

Jannat Kashmir Yahi Hai

جس خاک کی ہے اوج پہ تقدیر یہی ہےجو رد‌ غلامی کی ہے اکسیر یہی ہے

بیداری جمہور کی تصویر یہی ہےآزادئ افراد کی تعمیر یہی ہے

اے عرشؔ ترے خواب کی تعبیر یہی ہےفردوس زمیں جنت کشمیر یہی ہے

اس سے نہیں اچھا کوئی گلزار اسے دیکھاس سے نہیں بڑھ کر کوئی شہکار اسے دیکھ

اس سے نہیں اونچا کوئی دربار اسے دیکھاس سے نہیں بہتر کوئی دیدار اسے دیکھ

فطرت نے جو کھینچی ہے وہ تصویر یہی ہےفردوس زمیں جنت کشمیر یہی ہے

شروانیٔ معصوم کی جاگیر نہ ڈھونڈوشروانیٔ مظلوم کی جاگیر نہ ڈھونڈو

شروانیٔ مخدوم کی جاگیر نہ ڈھونڈوشروانیٔ مرحوم کی جاگیر نہ ڈھونڈو

شروانیٔ مرحوم کی جاگیر یہی ہےفردوس زمیں جنت کشمیر یہی ہے

گل پوش مکاں اور گل اندام مکیں بھیکم یاب نہیں حسن زمانے میں کہیں بھی

دنیا میں بہت نقش ہیں دل کش بھی حسیں بھیجو خامۂ قدرت کی ہے تحریر یہی ہے

فردوس زمیں جنت کشمیر یہی ہےجس حسن کا عشاق سناتے ہیں فسانہ

جس حسن کے ہر ناز پہ مٹتا ہے زمانہجس حسن کا ہے لب پہ مغنی کے ترانا

جس حسن کے جلووں کی نہ حد ہے نہ ٹھکانااس حسن جہاں تاب کی تنویر یہی ہے

فردوس‌ زمیں جنت کشمیر یہی ہےسرمایہ و محنت کا ہے جو مسئلۂ خاص

افلاس و امارت کا ہے جو مسئلۂ‌ خاصدہقان کی عظمت کا ہے جو مسئلۂ خاص

مزدور کی شوکت کا ہے جو مسئلۂ خاصاس مسئلۂ خاص کی تفسیر یہی ہے

فردوس زمیں جنت کشمیر یہی ہےالفت کے پیمبر ہیں پرستار اسی کے

اخلاص کی مے پیتے ہیں مے خوار اسی کےمردان مجاہد ہیں طلب گار اسی کے

ہندو ہوں کہ مسلم ہیں گرفتار اسی کےوابستہ ہیں سب جس سے وہ زنجیر یہی ہے

فردوس زمیں جنت کشمیر یہی ہےسرمائے کے بیٹوں کی ہوئی خوب دکاں بند

جاگیر پرستوں پہ ہوئی راہ اماں بندمحکومئ‌‌ مجبور کی کب سے تھی زباں بند

صدیوں کی غلامی کے ہیں کس درجہ گراں بندکاٹے گی جو یہ بند وہ شمشیر یہی ہے

فردوس زمیں جنت کشمیر یہی ہے

— عرش ملسیانی