نظم 120 اشعار

میرے پیارے وطن

Mere Pyare Watan

میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطن

ہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن

گل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساں

تیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماں

ہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاں

کوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواں

ہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاں

ہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاں

دل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواں

انجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماں

نقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاں

تیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداں

تجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواں

دریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراں

شام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاں

کہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباں

اڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواں

جن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباں

تیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاں

بیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاں

عظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاں

دریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داں

کیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاں

اقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواں

جوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماں

تلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساں

گاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاں

میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطن

ہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن

تیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیں

سارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیں

فطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیں

فردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیں

سر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیں

میوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیں

ہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیں

وہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیں

اس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریں

ہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیں

ہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیں

وہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیں

صنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریں

ہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریں

دریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیں

یا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریں

یا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیں

نقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیں

شان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیں

چتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیں

بت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیں

میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطن

ہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن

دل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمن

تیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہن

اک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمن

تیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخن

ہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریں

غنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختن

کنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمن

بستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بن

وہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرن

رنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھن

وہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمن

کھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المنن

چشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہن

تابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہن

کتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھن

کتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسن

کتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگن

تیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کن

تیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمن

بھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپن

عالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فن

رائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرن

ولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔ

کرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔ

میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطن

ہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن

کھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظری

تیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتری

جہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتری

وہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوری

پاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہری

دلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پری

دل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھری

تیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہری

صوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبری

چشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتری

عدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروری

وہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبری

رکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندری

راناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سری

ساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جری

نیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبری

اب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وری

ویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصری

پاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروری

بخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبری

خوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہری

ذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستری

میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطن

ہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن

تو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام بر

پالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظر

افضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبر

ہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثر

جس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطر

بے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبر

ہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگر

درماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گر

جنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپر

کرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصر

رونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجر

نخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارور

کوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبر

تیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیر

ہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنر

جب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمر

میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطن

ہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن

— عرش ملسیانی