غزل 5 اشعار

نیرنگی بہار و خزاں دیکھتے رہے

Nairangi-e-bahaar o khizaan dekhte rahe

نیرنگی بہار و خزاں دیکھتے رہےحیرت سے ہم طلسم جہاں دیکھتے رہے

پیش نظر جہاں کے رہی رحمت خداہم برہمیٔ حسن بتاں دیکھتے رہے

ہر گل ہماری عقل پہ ہنستا رہا مگرہم فصل گل میں رنگ خزاں دیکھتے رہے

عرض نیاز شوق کی اچھی ملی یہ دادہنس کر وہ میرے اشک رواں دیکھتے رہے

طے کر گیا جنوں مرا اک جست میں انہیںحیرت سے مجھ کو کون و مکاں دیکھتے رہے

— عرش ملسیانی