غزل 7 اشعار

جزو جاں رہتا ہے دائم جو غم جاں ہو کر

Juzv-e jaan rehta hai daaim jo gham-e jaan ho kar

جزو جاں رہتا ہے دائم جو غم جاں ہو کرعقل تکتی ہے اسے ششدر و حیراں ہو کر

سوچتا ہوں کہ وہی منزل ادراک نہ ہوذہن بیٹھا ہے جہاں سر بہ گریباں ہو کر

جل بجھے خاک ہوئے اس پہ قیامت یہ ہےہم کو جینا بھی پڑا سوختہ ساماں ہو کر

قصۂ خانۂ برباد نہ پوچھو ہم سےاب وطن میں کبھی جائیں گے تو مہماں ہو کر

مجھ کو کر دیتی ہیں الہام بشر کا قائلمیری خوشیاں ترے چہرے سے نمایاں ہو کر

ان سے وعدہ بھی لیا دل کی خلش بھی نہ مٹیمفت رسوا ہوئے شرمندۂ احساں ہو کر

کیا چلائے گا وہ گرداب میں کشتی اے عرشؔموج ساحل بھی ڈرائے جسے طوفاں ہو کر

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں