غزل 6 اشعار

کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Kabhi hum mein tum mein bhi pyar tha tumhein yaad ho ke na yaad ho

کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہونہ کسی کے دل میں غبار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

یہ چلی ہے کیسی ہوا کہ اب نہیں کھلتے پھول ملاپ کےکبھی دور فصل بہار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تھیں بہم نشاط کی محفلیں تھیں قدم میں لطف کی منزلیںبڑا زندگی پہ نکھار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تھی ہر ایک بات میں چاشنی حق و صدق و لطف و خلوص کیرہ حق پہ چلنا شعار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ہوئے لڑ کے ہم سے اگر جدا رکھی اور ملک کی اک بنایہ تمہیں کا شوق فرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ہوئی جنگ و حرب کی ابتدا تو بتاؤ بس یہی اک پتاکوئی تم میں ننگ وقار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں