غزل 10 اشعار

خودی کا راز داں ہو کر خودی کی داستاں ہو جا

Khudi ka raazdaan ho kar khudi ki daastan ho ja

خودی کا راز داں ہو کر خودی کی داستاں ہو جاجہاں سے کیا غرض تجھ کو تو آپ اپنا جہاں ہو جا

بیان پایمالی شکوۂ برق تپاں ہو جاگلستان جہاں کے پتے پتے کی زباں ہو جا

شریک کارواں ہونے کی گو طاقت نہیں تجھ میںمگر اتنی تو ہمت کر کہ گرد کارواں ہو جا

تزلزل سے بری ہو تیرا استقلال الفت میںیقین پر یقیں ہو جا گمان بے گماں ہو جا

کسی صورت تو شرح آرزوئے شوق کرنی ہےزباں چپ ہے اگر اے دل تو آپ اپنی زباں ہو جا

زمانے پر بھروسا کر نہ راز عشق کا اے دلجہاں تک ہو سکے تو آپ اپنا رازداں ہو جا

تجھے داغوں کے لاکھوں ماہ و انجم مل ہی جائیں گےاٹھ اے درد دل پر آہ اٹھ کر آسماں ہو جا

کبھی تو عارضی سا اک تبسم لب پہ آنے دےکبھی تو مہرباں مجھ پر مرے نا مہرباں ہو جا

ترے آنے پہ اے تیر نگاہ ناز میں خوش ہوںدل بیتاب میں آ کر حساب دوستاں ہو جا

بلندی نام سے اے عرشؔ مل سکتی نہیں تجھ کوزمین شعر پر اوج سخن سے آسماں ہو جا

— عرش ملسیانی