غزل 7 اشعار

کلی پہ رنگ گلوں پر نکھار بھی تو نہیں

Kali pe rang gulon par nikhar bhi to nahin

کلی پہ رنگ گلوں پر نکھار بھی تو نہیںبہار خاک امید بہار بھی تو نہیں

کچھ ایسی آگ لگی ہے مرے گلستاں میںیہاں شجر کوئی بے برگ و بار بھی تو نہیں

اسی فریب میں رہتا کہ پاس ہے منزلستم تو یہ ہے کہ رہ میں غبار بھی تو نہیں

مجھے زمانے نے بخشی ہے وہ فریب کی مےنشہ تو ایک طرف ہے خمار بھی تو نہیں

سمجھ میں آتی نہیں سرد مہریٔ دنیاکسی کے سینے میں غم کا شرار بھی تو نہیں

قرار دل کے لئے ڈھونڈھتا مگر توبہترے بغیر یہ اب بیقرار بھی تو نہیں

نکل تو جاؤ جہان خراب سے اے عرشؔمگر یہاں کوئی جائے فرار بھی تو نہیں

— عرش ملسیانی