غزل 8 اشعار

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے

Mohabbat soz bhi hai saaz bhi hai

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہےخموشی بھی ہے یہ آواز بھی ہے

نشیمن کے لیے بیتاب طائروہاں پابندیٔ پرواز بھی ہے

خموشی پر بھروسا کرنے والےخموشی درد کی غماز بھی ہے

ہے معراج خرد بھی عرش اعظمجنوں کا فرش پا انداز بھی ہے

دل بیگانہ خود دنیا میں تیراکوئی ہم دم کوئی ہم راز بھی ہے

کبھی محتاج لے کا بھی نہیں یہکبھی نغمہ رہین ساز بھی ہے

کبھی تو دل ہے محو بے نیازیکبھی طوف حریم ناز بھی ہے

ترانہ ہائے ساز زندگی میںاک آواز شکست ساز بھی ہے

— عرش ملسیانی