نظم 11 اشعار

لال بہادر شاستری

Lal Bahadur Shastri

شہید قوم ہے کوئی کوئی شہید وطنبجا ہے تجھ کو کہوں میں اگر شہید وطن

تلاش امن میں دلی سے تاشقند گیاکسے خبر تھی کہ باندھے ہوا تھا سر سے کفن

پیام امن دیا جارحان عالم کوگیا سنوار کے دنیا کی زندگی کا چلن

کسے مجال تری بات کوئی کاٹ سکےدلیل تیری مؤثر تو پر اثر ہے سخن

مٹھاس بات میں ایسی کہ رام اہل جہاںتری زبان تھی قند و نبات کا مخزن

تھی استوار محبت تیری دوستی کی اساسفضائے دہر میں کوئی نہ تھا ترا دشمن

تو ایک بندۂ درویش تھا فقیر منشچلا گیا جو زمانے سے جھاڑ کر دامن

ترے خلوص کا قائل ہے صدر پاکستاںکہاں سے سیکھا تھا تو نے یہ گفتگو کا فن

زمانے بھر میں ہوا ہر طرف ترا ماتممحیط سارے جہاں کو ہوئے ہیں رنج و محن

قبول ہم کو کیے تو نے جس قدر پیماںہے تیری روح ہمارے دلوں پہ سایہ فگن

ہے شرق و غرب میں قائل ہر ایک شخص تراوظیفہ خواں و ثناگر ترے شمال و دکن

— عرش ملسیانی