غزل 5 اشعار

سب دیکھنے والے انہیں غش کھائے ہوئے ہیں

Sab dekhne wale unhein ghash khaaye huye hain

سب دیکھنے والے انہیں غش کھائے ہوئے ہیںاس پر بھی تعجب ہے وہ شرمائے ہوئے ہیں

اے جان جہاں ہم کو زمانے سے غرض کیاجب کھو کے زمانے کو تجھے پائے ہوئے ہیں

حیران ہوں کیوں مجھ کو دکھائی نہیں دیتےسنتا ہوں مری بزم میں وہ آئے ہوئے ہیں

نسبت کی یہ نسبت ہے شرف کا یہ شرف ہےتیرے ہیں اگر ہم ترے ٹھکرائے ہوئے ہیں

ہے دیکھنے والوں کو سنبھلنے کا اشاراتھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں

— عرش ملسیانی