غزل 5 اشعار

یہ دنیا ہے اسے دار الفتن کہنا ہی پڑتا ہے

Yeh duniya hai ise daar-ul-fitan kehna hi paRta hai

یہ دنیا ہے اسے دار الفتن کہنا ہی پڑتا ہےیہاں ہر راہبر کو راہزن کہنا ہی پڑتا ہے

وفور عقل انساں سے بڑھی انساں کشی اتنیوفور‌ عقل کو دیوانہ پن کہنا ہی پڑتا ہے

وہ صحرا جس میں کٹ جاتے ہیں دن یاد بہاراں سےبا الفاظ دگر اس کو چمن کہنا ہی پڑتا ہے

گل‌ افشانیٔ گفتار‌ مجاہد بے اثر ہو جبتو اس کو قصۂ دار و رسن کہنا ہی پڑتا ہے

یہاں کتنوں کے جی چھوٹے یہاں کتنوں کے دم ٹوٹےوفا کی راہ کو ہمت شکن کہنا ہی پڑتا ہے

— عرش ملسیانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں