غزل 8 اشعار

تو اگر دل میں ایک بار آئے

Tu agar dil mein ek baar aaye

تو اگر دل میں ایک بار آئےعمر بھر کے لئے قرار آئے

آشیانہ ہی گلستاں میں نہیںاب خزاں آئے یا بہار آئے

وہ نہ آئیں تو اے دم آخرلب پہ نام ان کا بار بار آئے

موت نے آسرا دیا بھی تو کبجب مصیبت کے دن گزار آئے

یاس کہتی ہے کچھ تمنا کچھکس کی باتوں پہ اعتبار آئے

یہ تو کچھ تلخ تھی مرے ساقیاب جو آئے وہ خوش گوار آئے

اس کو تیرا پیامبر سمجھوںموت اگر وقت انتظار آئے

عرشؔ وہ بے قراریاں نہ رہیںدل کو اب کس طرح قرار آئے

— عرش ملسیانی